Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاک جگہ پر گیلے پاؤں لگ جائیں تو نماز کا حکم
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم ناپاک جگہ پر کیلیے پاؤں لگے ، پھر ایسے ہی نماز ادا کر لی ، تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) گھر کی چٹائی پر بچہ نے پیشاب کر دیا تھا ، جس جگہ اس نے پیشاب کیا، وہ جگہ مجھے معلوم تھی، لیکن نماز پڑھتے ہوئے اس پر غور نہیں کیا، میرے پاؤں بھی گیلے تھے ، اس لئے اس وقت وہ جگہ گیلی تھی یا خشک اس کا بھی اندازہ نہیں ۔ میں نے وہاں نماز پڑھ لی، بعد میں مجھے یاد آیا کہ اس جگہ تو بچے نے پیشاب کیا ہوا تھا ، جبکہ میرے گلے پاؤں اس جگہ لگے تھے ، ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہو گا ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.Ask your question
Ask in Urdu, English or any language. The answer comes from the library’s books, fatawa and lectures, with references.
Or ask:
Related fatawa
- گوشت دھوتے وقت گوشت کپڑوں کو لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟
- گاڑی کی خشک ناپاک سیٹ پر گیلے کپڑوں میں بیٹھنے کا حکم
- پیشاب کے بعد گاڑھے قطرے کپڑوں پر لگ جائیں تو نماز ہوجائیگی؟
- شاور سے نہاتے ہوئے چھینٹے اڑ کر کپڑوں پر لگ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
- استنجا کرنے کے دوران پاؤں پر چھینٹے لگ جائیں تو حکم
- پینٹ پر مذی کے چند قطرے لگ جائیں تو حکم؟
- نامعلوم پانی کی چھینٹیں کپڑوں پرپڑیں توکیاحکم ہے ؟
- گیلے ناپاک کپڑوں پر استری کرنے کے بعد استری کیسے پاک ہوگی؟
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.