Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شاور سے نہاتے ہوئے چھینٹے اڑ کر کپڑوں پر لگ جائیں تو کیا حکم ہے ؟

Fatwa no.
892-Web ::
Issued
10 رمضان المبارک 1444ھ / 01 اپریل 2023ء

Question

حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) شاور سے نہاتے وقت ناپاک جسم پر پانی ڈالا اور تھوڑے فاصلے پر کپڑے ٹنگے تھے ان پر چھینٹے لگے ، اب معلوم نہیں کہ وہ پاک چھینٹے ہیں یانا پاک تو کپڑوں کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

غسل فرض ہونے کی صورت میں جسم نجاست حقیقیہ نہیں بنتا کہ اس پر لگ کر اچھلنے والے چھینٹے ناپاک کہلائے جائیں ہاں مائے مستعمل ضرور ہوتے ہیں لیکن مائے مستعمل صحیح قول کے مطابق پاک ہوتا ہے۔ نیز غسل کے دوران جو پاک کپڑے ننگے ہوتے ہیں اور چھینٹوں سے گیلے ہو جاتے ہیں وہ پاک ہی کہلائیں گے کہ یقینی طور پر پاک چیز صرف شک اور وہم سے ناپاک نہ ہو گی یعنی جب تک یہ یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ نجس چھینٹے کپڑوں پر لگے ہیں تب تک وہ کپڑے پاک ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.