Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نامعلوم پانی کی چھینٹیں کپڑوں پرپڑیں توکیاحکم ہے ؟

Fatwa no.
1247-WAT
Issued
13 ربیع الثانی 1444ھ/09 نومبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کپڑوں پر پانی کی چھینٹیں پڑ جائیں اور معلوم نہ ہو کہ پانی پاک ہے یا نا پاک تو اس صورت میں کپڑوں کے متعلق کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں جب تک یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ جس پانی کی چھینٹیں پڑی ہیں وہ ناپاک ہے ، تو ایسی صورت میں محض شک وشبہ کی وجہ سے اس پر ناپاکی کا حکم نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ اشیاء میں اصل طہارت ہے لہذا اگر کسی پانی کے متعلق پاک یا ناپاک ہونے کا علم نہ ہو تو اسے پاک ہی جانیں گے۔ ہاں اگر پانی میں نجاست کا اثر واضح ہے یا یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ پانی ناپاک ہے تو اس پانی کے چھینٹے کپڑوں پر پڑنے سے کپڑوں کا اتنا حصہ ناپاک ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.