Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اوقاتِ مکروہہ میں نماز پڑھنے سے منع کرنے کی شرعی حکمت کیا ہے؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم اوقات مکروہہ میں نماز پڑھنے کی ممانعت میں کیا حکمت ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز کے تین مکروہ اوقات میں نماز نہ پڑھنے کا حکم ہے ، اس کی کیا حکمت ہے ؟ جواب تین مکروہ اوقات جن میں ہر قسم کی نماز ادا، قضا، نفل یہاں تک کہ سجدہ کرنا منع ہے، وہ یہ ہیں : (1) سورج طلوع ہونے سے لے کر تقریباً 20 منٹ تک ۔ (2) ضحوۃ کبری یعنی نصف النہار شرعی سے لے کر سورج ڈھلنے تک ۔ (3) سورج غروب ہونے کے سے پہلے کے تقریباً 20 منٹ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.Ask your question
Ask in Urdu, English or any language. The answer comes from the library’s books, fatawa and lectures, with references.
Or ask:
Related fatawa
- نماز کی ہررکعت میں دو سجدوں کی حکمت
- مکروہ اوقات میں نمازِجنازہ پڑھنے کاحکم
- کن اوقات میں قضا نماز پڑھنا جائز نہیں؟
- مکروہ وقت میں صاحبِ ترتیب پہلے عصر پڑھے یا قضا نماز؟
- تین اوقاتِ مکروہہ میں قضا نماز ادا کر لی جائے ، تو کیا نماز ہوجائے گی
- نماز میں جان بوجھ کر نماز توڑنے والا کام کرنا کیسا ہے ؟
- نماز مکروہ تحریمی ہونے کے لئے مکروہ تحریمی فعل کا پوری نماز میں پایا جانا ضروری ہے یا کچھ وقت میں ؟
- نماز میں کپڑوں کو اوپر کھینچنے کے مکروہ ہونے کی وجہ
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.