Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں جان بوجھ کر نماز توڑنے والا کام کرنا کیسا ہے ؟
- Fatwa no.
- 570-Web
- Issued
- 16 ربیع الاول 1444ھ/13اکتوبر 2022ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا نماز میں مفسدات ( نماز توڑنے والی چیزوں) یا مکروہ تحریمی کا ارتکاب کرنے سے بندہ گناہ گار ہوتا ہے ؟
Answer (beginning)
بلا عذر شرعی نماز میں کسی مفسد کا قصد ارتکاب کرنے کی صورت میں جہاں سرے سے دوبارہ نماز پڑھنا فرض ہوتا ہے وہیں بندہ ناجائز و حرام کام کرنے کی وجہ سے گنہگار بھی ہو جاتا ہے۔ 66 بہارِ شریعت میں ہے : ” نماز توڑ نا بغیر عذر ہو تو حرام ہے۔ (بہارِ شریعت، حصہ 4، صفحہ 697،مطبوعه مكتبة المدينه، کراچی) اسی طرح مکروہ تحریمی کے ارتکاب کرنے سے جہاں عبادت ناقص ہو جاتی ہے ، وہیں مکروہ تحریمی کرنے والا گنہ گار بھی ہوتا ہے، اگرچہ اس کا گناہ حرام سے کم ہے، مگر اس کا بھی چند بار ار تکاب کرنا، کبیرہ گناہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.