Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں کپڑوں کو اوپر کھینچنے کے مکروہ ہونے کی وجہ

Fatwa no.
1128-WAT
Issued
03 ربیع الاول 1444ھ /30 ستمبر 2022ء

Question

(دعوت اسلامی) نماز کے دوران کپڑوں کو اوپر کھینچنے کو مکروہ تحریمی کہا جاتا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟

Answer (beginning)

حدیث پاک میں نماز کے دوران کف ثوب یعنی کپڑوں کو لپیٹنے اور سمیٹنے سے منع فرمایا ہے اور کپڑوں کو اوپر کی طرف کھینچنا بھی کف ثوب کی ہی ایک صورت ہے چنانچہ بخاری شریف میں حدیث پاک ہے کہ : ” قال النبی صلی الله تعالى عليه وسلم أمرتُ ان اسجد على سبعة أعظم على الجبهة واشار بيده على انفه و اليدين والركبتين و اطراف القدمين ولا نكفت الثياب والشعر ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ تعالی علیه و آله وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دستِ مبارک سے اپنی مقدس ناک شریف کی طرف اشارہ فرمایا اور دونوں ہاتھوں پر اور دونوں گھٹنوں پر اور دونوں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.