Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تین اوقاتِ مکروہہ میں قضا نماز ادا کر لی جائے ، تو کیا نماز ہوجائے گی

Fatwa no.
337-Web

Question

گی دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کو پتہ نہ چلے اور وہ تین اوقات مکروہہ میں سے کسی وقت میں کوئی قضا نماز پڑھ لے، تو کیا قضا نماز ہو جائے گی یا دوبارہ پڑھنی ہو گی ؟

Answer (beginning)

تینوں اوقات مکروہہ میں فرض نماز شروع ہی نہیں ہوتی سوائے اسی دن کی عصر کی نماز کے ، لہذا اگر کسی نے ان اوقات میں قضا نماز پڑھی تو وہ نہ ہوئی، اس پر لازم رہے گا کہ دوبارہ مکر وہ وقت کے علاوہ اپنی قضا نماز پڑھے۔ غنیة المتملی میں ہے: "ثلثة يكره فيها الفرائض والتطوع فالكراهة في الفرض كالفوائت تمنع الصحة لوجوبها بسبب كامل وكذا الواجبات الفائتة كسجدة تلاوة وجبت بتلاوة في وقت غير مكروه وجنازة حضرت فيه والوتر لأنها وجبت كاملة فلا تؤدى ناقصة بالنقصان القوی“ یعنی اوقات ثلاثہ میں فرائض اور نوافل ادا کرنا مکر وہ ہے ، پس فرض جیسے قضا نمازوں میں کراہت مانع صحت ہے ان کے کامل طور پر واجب ہونے کی وجہ سے ، اور…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.