Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزے میں کلی کے بعد تھوک نگلنے سے روزہ ٹوٹے گا؟
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم روزہ کی حالت میں کمی کی دو بار تھوک پھینکا اور پھر تھوک نگل لیا، روزہ ٹوٹے گا یا نہیں ؟ سوال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) روزہ کی حالت میں کلی کی ، پھر دو بار تھوک پھینکا اور تیسری بار تھوک نگل لیا، کچھ ٹھنڈک حلق میں محسوس ہوئی ، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا ؟ جواب کلی کی اور پانی بالکل پھینک دیا، صرف کچھ تری منہ میں باقی رہ گئی ، تھوک کے ساتھ اُسے نگل لیا، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ ودر مختار میں ہے : ” بقي بلل في فيه بعد المضمضة وابتلعه مع الريق --- لم يفطر “ ترجمہ : کلی کے بعد منہ میں ترمی باقی رہ گئی تھی، اسے تھوک کے ساتھ نگل گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.Ask your question
Ask in Urdu, English or any language. The answer comes from the library’s books, fatawa and lectures, with references.
Or ask:
Related fatawa
- روزے میں تھوک نگلنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
- روزے میں مسواک کا ریشہ نگلنے سے روزہ ٹوٹے گا؟
- روزے میں بلغم نگلنے سے روزے کا حکم؟
- سانس کی پرابلم کی وجہ سے کلی کرتے ہوئے پانی حلق سے اتر گیا، تو روزہ کا حکم
- کلی کرنے پر پانی کی تری نگلنے سے روزہ ٹوٹ جائےگا؟
- تھوک نگل لی تو کیا روزہ ٹوٹ گیا؟
- روزے میں تھوک نگلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
- نمکین پانی سے کلی کرنے پر روزہ ٹوٹ جائیگا؟
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.