Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے میں بلغم نگلنے سے روزے کا حکم؟

Fatwa no.
1470-WAT
Issued
12 رمضان المبارک 1444ھ/08اپریل2023ء

Question

(دعوت اسلامی) حالت روزہ میں منہ کے اندر بلغم آجائے، تو اسے نگل لیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اس بلغم کو واپس نگل لینے سے روزے میں کچھ فرق نہیں آئے گا، اس لیے کہ تھوک اور بلغم جب تک منہ میں ہے ان کو نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ ہاں ! منہ سے باہر مثلاً ہتھیلی پر تھوک کر پھر منہ میں دوبارہ ڈالا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور ایسا عام طور پر کوئی نہیں کرتا۔ وو بہار شریعت میں ہے " بات کرنے میں تھوک سے ہونٹ تر ہو گئے اور اسے پی گیا یا مونچھ سے رال ٹپکی ، مگر تار ٹوٹانہ تھا کہ اُسے چڑھا کر پی گیا یا ناک میں رینٹھ آگئی بلکہ ناک سے باہر ہو گئی مگر منقطع نہ ہوئی تھی کہ اُسے چڑھا کر نگل گیا یا کھنکار مونھ میں آیا اور کھا گیا اگرچہ کتنا ہی ہو ، روزہ نہ جائے گا مگر ان باتوں سے احتیاط…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.