Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے میں تھوک نگلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

Fatwa no.
584-Web
Issued
30 ربیع الاول 1444ھ /27اکتوبر 2022ء

Question

نگلنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) روزے میں تھوک منہ میں جمع ہو گیا اور کچھ ہو نٹوں پر آگیا اس کو نگل لیا یا ناک میں رینٹھ جمع ہو گئی تھی تھوڑی سی باہر آئی اور اس کو واپس اندر چڑھالیا توروزہ ٹوٹے گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں تھوک نگلنے یارال اور رینٹھ منقطع نہ ہو تو اس کو واپس اندر لے جانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ اس سے بچنا چاہیے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بات کرنے میں تھوک سے ہونٹ تر ہو گئے اور اُسے لبی گیا یا منہ سے رال ٹپکی، مگر تار ٹوٹانہ تھا کہ اسے چڑھا کر پی گیا یا ناک میں رینٹھ آگئی، بلکہ ناک سے باہر ہو گئی، مگر منقطع نہ ہوئی تھی کہ اسے چڑھا کر نگل گیا یا کھنکار منہ میں آیا اور کھا گیا اگر چہ کتنا ہی ہو ، روزونہ جائے گا مگر ان باتوں سے احتیاط چاہیے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.