Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کلی کرنے پر پانی کی تری نگلنے سے روزہ ٹوٹ جائےگا؟

Fatwa no.
3641-WAT
Issued
16 رمضان المبارک 1446ھ / 17 مارچ 2025 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کلی کرنے کے بعد پانی اچھی طرح باہر نکال دینے کے بعد بھی پانی کی تری منہ میں رہ جاتی ہے، کیا اسے نگلنے سے ر ٹوٹ جائے گا؟

Answer (beginning)

کلی کی اور پانی بالکل پھینک دیا، صرف کچھ تری منہ میں باقی رہ گئی ، تھوک کے ساتھ اُسے نگل گیا، تو روزہ نہیں ٹوٹا۔ در مختار میں ہے ”بقي بلل في فيه بعد المضمضة وابتلعه مع الريق ۔۔۔ لم یفطر “ ترجمہ : کلی کے بعد منہ میں تری باقی رہ گئی تھی، اسے تھوک کے ساتھ نگل گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ (درمختار مع ردالمحتار، ج 2، ص400،396، دار الفكر، بيروت) بہار شریعت میں ہے " کلی کی اور پانی بالکل پھینک دیا، صرف کچھ تری مونھ میں باقی رہ گئی، تھوک کے ساتھ اُسے نگل گیا۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.