Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گاڑی کی رجسٹریشن کے لیے زیادہ پیسے لیے لیکن خرچ کم آیا تو بچی ہوئی رقم کا حکم
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم گاڑی کی رجسٹریشن کے لئے زیادہ پیسے لئے لیکن خرچ کم آیا ، تو بچ جانے والی رقم کا حکم دار الافتاء المسنت (دعوت اسلامی) سوال ایک دوست نے مجھے اپنی گاڑی کی رجسٹریشن کروانے کے لیے کہا، یہ گاڑی تھوڑی پرانی تھی ، تو میں نے کہا، اس کی رجسٹریشن تھوڑی مشکل ہے ، خرچہ 12000 تک آئے ، تو کروا دوں ؟ تو اس نے 12000 روپے مجھے دئیے لیکن مکمل خرچہ 9500 روپے ہوا، تو باقی بچ جانے والی رقم میں رکھ سکتا ہوں یا نہیں ؟ جبکہ یہ میرا کام نہیں ہے نہ ہی کوئی فیس وغیرہ لینا طے تھا ۔ جواب پوچھی گئی صورت میں بچ جانے والی باقی اپنے پاس رکھنا جائز نہیں بلکہ انہیں رقم واپس کرنا ضروری ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.Ask your question
Ask in Urdu, English or any language. The answer comes from the library’s books, fatawa and lectures, with references.
Or ask:
Related fatawa
- مشترکہ سفر کے بچے ہوئے پیسوں کا کیا کریں؟
- دکان بیچتے ہوئے گڈ ول کے پیسے الگ سے لیناکیسا ؟
- کسی کے گرے ہوئے پیسے اٹھا کر خرچ کردئیے تو کیا حکم ہے ؟
- کبوتر بازی میں جیتے ہوئے پیسے سے کھانا کھلانا
- قرض دیئے ہوئے پیسوں پر زکوۃ ہوگی؟
- نیاز کے نام پر نکالے ہوئے پیسے مسجد میں دینا
- کیا کاروبار میں انویسٹ کیے ہوئے پیسوں پر زکوۃ ہوتی ہے ؟
- نابالغ بچے نے زمین پر پڑے ہوئے روپے اٹھا لیے، تو کیا حکم ہے؟
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.