Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مشترکہ سفر کے بچے ہوئے پیسوں کا کیا کریں؟

Answered by
مولانا محمد آصف عطاری مدنی
Fatwa no.
4511-WAT
Issued
16 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 08 دسمبر 2025ء

Question

سفر پر جانے کے لیے کرایہ اکٹھا کیا اور اس میں سے کچھ بیچ گیا تو اس کا کیا کریں دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم نے کراچی جانے کے لیے ٹرین کے کرایہ کی مد میں 2000 روپے ہر بندے سے جمع کیا ہے ، اب اس میں سے تین تین سو روپے سب کے بچ گئے ہیں، تو کیا ان کرایہ دینے والوں کو بتائے بغیر وہ رقم مسجد کے چندے میں دے سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں کرایہ کی مد میں لی گئی رقم میں سے ، جس کے جتنے پیسے بچے ہیں، وہ اسے واپس کرنا فرض ہے یا وہ جس کام میں لگانے کی اجازت دیں ، اس میں لگا دیے جائیں، اُن کی اجازت کے بغیر مسجد کے چندے یا کسی دوسرے کام میں استعمال کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ رقم لینے والوں کے ہاتھ میں امانت تھی، کہ وہ ان کی طرف سے کرائے کی ادائیگی کے وکیل تھے ، تو جتنی رقم باقی بچی ، وہ حق دار کو واپس کی جائے گی ، یا اس کی رضا مندی سے دوسرے کسی جائز کام مثلا مسجد کے چندے میں دے دی جائے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.