Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دکان بیچتے ہوئے گڈ ول کے پیسے الگ سے لیناکیسا ؟
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص دکان بیچ رہا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ چونکہ یہاں میری دکان کافی عرصہ سے تھی اور جھی جھائی دکان ہے اس لئے میں گڈول (Goodwill) کے الگ سے پیسے لوں گا۔ کیا یہ شخص سودے میں یوں گڈول کے الگ سے پیسے مانگ سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
شرعی اعتبار سے گڈول ( Goodwill ) کے الگ سے پیسے مقرر نہیں کر سکتے کیونکہ گڈول کوئی مال نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت فقط منفعت کی ہے جس کے عوض میں الگ سے پیسے وصول کرنا، جائز نہیں۔ پوچھی گئی صورت میں فریقین کا شرعی تقاضہ پورا کرنا بہت آسان ہے دکان اور گڈول ( Goodwill ) کی قیمتوں کو الگ الگ فرض نہ کریں بلکہ فروخت کرنے والا تمام تر اغراض کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ایک قیمت بیان کر دے اور خریدنے والا چاہے تو قبول کرے چاہے تو قبول نہ کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.