Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض دیئے ہوئے پیسوں پر زکوۃ ہوگی؟
- Fatwa no.
- 1579-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی اسلامی بھائی کا پیسہ پھنسا ہوا ہے کیا وہ اس کی زکوۃ نکالے گا؟ اگر نکالے گا تو کب نکالے گا ؟
Answer (beginning)
اگر مقروض پیسہ دینے سے انکار نہیں کرتا بلکہ اقرار کرتا ہے اور ٹال مٹول کرتا ہے یا نادار ہونے کی وجہ سے ادئیگی نہیں کر پار ہا یا منکر ہے مگر قرض خواہ کے پاس گواہ موجود ہیں تو قرض کی زکوۃ سال بسال واجب ہوتی رہے گی اور ادائیگی اس وقت واجب ہو گی جب نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو جائے اور اگر وہ قرض کئی سال رہا تو وصولی کے بعد تمام سالوں کی زکوۃ لازم ہو گی اس لئے بہتر ہے کہ اپنے بقیہ مالوں کی زکوۃ دینے کے ساتھ ساتھ قرض کی بھی زکوۃ دینار ہے تاکہ بعد میں حساب کتاب کی دشواریاں نہ ہوں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.