Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کبوتر بازی میں جیتے ہوئے پیسے سے کھانا کھلانا
- Fatwa no.
- 1304-WAT
- Issued
- 08 جمادی الاولی 1444ھ/03دسمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کبوتر بازی میں جیتے ہوئے پیسے سے کھانا کھلانا جائز ہے؟
Answer (beginning)
چیوں کے بدلے کبوتروں کے مقابلے کروانے میں عام طور پر دو قسم کے گناہ ہیں : ایک تو یہ کہ جب وہ تھک تھک کر اترنا چاہیں تو انہیں اتر نے نہ دینا بلکہ مقابلے میں جیتنے کی غرض سے انہیں اڑائے رکھنا، اور بھوکے پیاسے رکھنا، اور گھنٹوں، پہروں انہیں اسی عذاب شدید میں رکھنا۔ یہ بے زبان پرندوں پر ظلم کرنا اور ان کو سخت تکلیف پہنچانا ہے۔ اور بے زبان جانوروں، پرندوں پر ظلم ، انسان پر ظلم کرنے سے سخت ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ایسے مقابلے میں پیسے لگانا جوا ہے۔ اور جو اگناہ کبیرہ ، سخت حرام و گناہ کا کام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.