Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا کاروبار میں انویسٹ کیے ہوئے پیسوں پر زکوۃ ہوتی ہے ؟

Fatwa no.
2560-WAT
Issued
04 رمضان المبارک 1445ھ /15مارچ 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کاروبار میں انویسٹ کیے ہوئے پیسوں پر زکوۃ ہوتی ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! کاروبار میں انویسٹ کی ہوئی رقم پر زکوۃ لازم ہوتی ہے، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ کاروبار کی رقم خود یا دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ مل کر اگر نصاب کو پہنچ جائے تو سال مکمل ہونے پر اصل رقم اور نفع دونوں کے مجموعہ پر زکوۃ لازم ہو گی۔ فتاوی رضویہ میں ہے ”مالِ تجارت جب تک خود یا دوسرے مالِ زکوۃ سے مل کر قدرِ نصاب اور حاجت اصلیہ مثل دین زکوۃ وغیرہ سے فاضل رہے گا، ہر سال اس پر زکوۃ واجب ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.