Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں کھانسنے کا حکم
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نماز میں کھانسی کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نماز کے دوران کھانسی کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ جواب بلاضرورت ارادہ نماز میں کھانسی کرنا مکروہ تنزیہی ہے ، اور اگر اس کے سبب دو حروف پیدا ہو گئے ، تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ البتہ ! اگر عذر یا کوئی صحیح غرض، ہو تو کھانسی کرنا جائز ہے ، مثلاً طبیعت کا تقاضا ہو، یا آواز صاف کرنے کے لیے ، یا امام سے غلطی ہو گئی ہے ، اس لیے کھانسی کی کہ درست کرلے ، یا اس لیے کہ دوسرے شخص کو اس کا نماز میں ہونا معلوم ہو جائے ، تو ان صورتوں میں نماز فاسد نہیں ہوتی ، اور اس…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.Ask your question
Ask in Urdu, English or any language. The answer comes from the library’s books, fatawa and lectures, with references.
Or ask:
Related fatawa
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.