Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض کا ایک اہم مسئلہ
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید پر میرا 15لاکھ کا قرض ہے ، زید نے بکر سے میری بات کروادی کہ مجھے قرض کی رقم بکر ادا کرے گا اور بکر نے اسے قبول کر لیا، بکر اب تک قرض کی آدھی رقم مجھے دے چکا ہے اور بقیہ کے متعلق کہتا ہے کہ میرے پاس فی الحال رقم کی گنجائش نہیں ہے ، جب ہو گی تب ادا کروں گا۔ یہ معاہدہ کیے ہوئے تقریبا پانچ سال ہو چکے ہیں، تو کیا میں اپنی بقیہ رقم کا مطالبہ زید سے کر سکتا ہوں؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں آپ اپنے قرض کا مطالبہ بکر ہی سے کریں گے ، زید سے نہیں کر سکتے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرعاً مقروض کا اپنے اوپر لازم آنے والے دین مثلاً قرض کو اپنے ذمہ سے دوسرے شخص کے ذمہ کی طرف منتقل کرنا حوالہ کہلاتا ہے ، مقروض یعنی حوالہ کرنے والے کو محیل اور دائن یعنی قرض خواہ کو محتال اور جس پر حوالہ کیا گیا ، اسے محتال علیہ یا محال علیہ کہتے ہیں۔ جب مقروض اپنے قرض کا دوسرے شخص پر حوالہ کر دے اور قرض خواہ اسے قبول کر لے ، تو مقروض بری الذمہ ہو جاتا ہے اور اب قرض خواہ اس سے قرض کا مطالبہ نہیں کر سکتا، سوائے اس کے کہ درج ذیل دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت پائی جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.