Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بھتیجی کو زکوٰۃ دینا

Fatwa no.
3689-WAT
Issued
20 رمضان المبارک 1446ھ / 21 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بھتیجی کو زکوۃ دینا کیسا؟ رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

بھتیجا بھتیجی اگر مستحق زکوۃ ہوں (یعنی شرعی فقیر ہوں کہ حاجت اصلیہ سے زائد اور قرض اگر ہو تو اس کو نکالنے کے بعد نصاب کے برابر ( یعنی ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کے برابر ) کسی قسم کے مال کے مالک نہ ہوں) اور غیر سید اور غیر ہاشمی ہوں تو انہیں زکوۃ دینا جائز بلکہ افضل ہے اور اس کا ڈبل ثواب ہے کہ صلہ رحمی کا بھی ثواب ہے اور صدقے کا بھی۔ ردالمختار میں ہے " عن أبي هريرة مرفوعا إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال «يا أمة محمد والذي بعثني بالحق لا يقبل الله صدقة من رجل وله قرابة محتاجون إلى صلته ويصرفها إلى غيرهم والذي نفسي بيده لا ينظر إليه الله يوم القيامة». اهـ.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.