Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تراویح میں ختمِ قرآن کا حکم

Fatwa no.
3670-WAT
Issued
10 رمضان المبارک 1446ھ / 11 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ مسجد میں جو تراویح کی نماز پڑھی جاتی ہے اس میں ختم قرآن کرنا سنت مؤکدہ ہے یا نہیں اور کیا یہ ہر فرد کے لیے ہے یا علی الکفایہ ہے؟

Answer (beginning)

تراویح کی نماز میں ایک مرتبہ ختم قرآن سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی اگر بعض لوگوں نے تراویح میں ختم قرآن کر لیا تو سنت موکدہ ادا ہو جائے گی۔ اس پر تراویح کی نماز میں ایک مرتبہ ختم قرآن مجید سنت ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے: " (التراویح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) اجماعاً- (والختم) مرة سنة " تراویح سنت مؤکدہ ہے، بر خلفاء راشدین کے مواظبت کرنے کی وجہ سے، مردو عورت کے لیے بالا جماع۔ اور ایک مرتبہ ختم قرآن سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.