Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عالمِ دین کو زکوٰۃ دینا
- Fatwa no.
- 3658-WAT
- Issued
- 14 رمضان المبارک 1446ھ / 15 مارچ 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا کسی عالم کو بھی زکوۃ دی جاسکتی ہے ؟
Answer (beginning)
عالم صاحب اگر فقیر شرعی ہیں (یعنی ان کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کے برابر کسی قسم کا مال موجود نہیں ہے) اور وہ سید وھاشمی بھی نہیں ہیں، تو انہیں زکوۃ اور صدقات واجبہ (صدقہ فطر و نذر و کفارہ وغیرہ) بھی دیئے جاسکتے ہیں اور اگر عالم صاحب فقیر شرعی نہیں، یا ھاشمی ہیں تو انہیں زکوۃ اور صدقات واجبہ نہیں دے سکتے ، ان کے علاوہ نفلی صدقہ دے سکتے ہیں۔ اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: إِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِيْنِ - - - ترجمہ کنز الایمان: زکوۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.