Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
منت کےاعتکاف کا حکم
- Issued
- 08 شعبان المعظم 1446ھ / 07 فروری 2025 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی عورت نے رمضان المبارک کے پورے مہینے کے اعتکاف کی منت مانی تو کیا اس کے بھی وہی احکام ہوں گے ، جو سنت اعتکاف (آخری عشرے) کے اعتکاف کے ہوتے ہیں، یعنی مسجد بیت سے باہر نکلنے کے حوالے سے جو پابندیاں ہیں کیا اس پورے مہینے میں نافذ ہوں گی؟
Answer (beginning)
منت والا اعتکاف واجب ہو تا ہے اور اس اعتکاف کے بھی وہی احکام ہوتے ہیں، جو رمضان المبارک کے آخری عشرے کے اعتکاف کے ہوتے ہیں، یعنی مرد کے لیے مسجد اور عورت کے لیے مسجد بیت سے نکلنے نہ نکلنے کے حوالے سے وہی احکام ہوتے ہیں، جو اس سنت اعتکاف کے ہوتے ہیں۔ نیز اس میں بھی روزہ رکھنا شرط ہوتا ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی دوسرے وہ تمام احکام جو رمضان کے آخری عشرے کے اعتکاف کے ہوتے ہیں ، وہی منت والے اعتکاف کے ہوتے ہیں ملک العلماء علامہ ابو بکر بن مسعود کا سانی حنفی رحمة الله ( المتوفى : 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں: ”وکل اعتکاف وجب في الأيام والليالي جميعا يلزمه اعتکاف شهر يصومه متتابعا.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.