Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سعد اللہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
- Answered by
- مولانا عبد الرب شاکر عطارمی مدنی
- Fatwa no.
- 5147-WAT
- Issued
- 17 محرم الحرام 1448 / 03 جولائی 2026. DaruliftaAhlesunnat
Question
سعد اللہ نام رکھنا کیسا ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال سعد اللہ نام رکھنا کیسا ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم سعد اللہ نام رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سعد اللہ نام رکھنا ، جائز ہے کہ سعد کا معنی ہے : " نیک ۔ مبارک ۔ " تو سعد اللہ کا معنی ہوا : " اللہ تعالی کا نیک اور مبارک بندہ ۔ البتہ ! بہتر ہے کہ صرف سعد نام رکھ لیا جائے کہ سعد عظیم صحابی رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا نام ہے ، جو ان دس صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے ہیں ، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی بشارت عطا فرمائی تھی ۔ اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے ہی کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.