Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ما شاء الله نام رکھنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
2988-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی بچے کا نام "ماشاء اللہ " رکھ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

"ماشاء اللہ "کوئی نام نہیں ہے، اس کا معنی ہے: "جو اللہ نے چاہا۔ یہ مخصوص اسلامی الفاظ ہیں، جن کا مخصوص موقع و محل ہے ، بطور نام اس کا ذکر قرآن و حدیث وغیرہ میں نہیں ہے اور نہ مسلمانوں میں مستعمل ہے ، لہذا اس کے بجائے کوئی اسلامی نام رکھا جائے، اور بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلام کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دين رِضْوَانُ اللهِ تَعَالیٰ عَلَيْهِمْ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.