Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عبدان کا معنی اورعبدان نام رکھنا کیسا؟

Fatwa no.
2972-WAT

Question

(دعوت اسلامی) اللہ پاک نے مجھے بیٹا عطا فرمایا ہے ، ہم نے گھر والوں کے مشورے سے جو نام رکھا ہے وہ "عبدان " ہے ، اس کا گوگل پر معنی دیکھا تو وہاں یہ ملا کہ یہ عبد سے نکلا ہے، معنی ہے: " عبادت گزار " شاید اس نام کے بارے میں گھر میں کچھ اختلاف ہو گیا ہے ، جب ہم نے کسی مفتی صاحب یا ناموں والی کتاب کی طرف رجوع کیا تو اس نام کی طرف کوئی رجحان نہیں پایا، آپ بتائیں کہ کیا عبد ان نام رکھ سکتے ہیں اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے ؟

Answer (beginning)

عبد ان نام رکھنا بالکل جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ صالحین اور نیک لوگوں کا نام ہے جیسا کہ عبد ان نام کے کئی معتبر ، ثقہ ، متقی محدثین کرام گزرے ہیں، اور حدیث پاک میں بھی نیک لوگوں کے ناموں پر نام رکھنے کا حکم ہے، لہذا عبد ان نام رکھنا بالکل صحیح ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد "رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد " نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہانام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے "عبدان "رکھ لیں۔ تاریخ الا سلام للذہبی میں ہے ” عبدان بن زرين بن محمد، أبو محمد الأذربيجاني، الدويني، المقرئ، الضرير.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.