Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کاسرکے بال کاٹنا
- Fatwa no.
- 362-WAT
- Issued
- 24 جمادی الاولی 1443ھ/29دسمبر 2021
Question
عورت کا سر کے بال کاٹنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عورت کا شوہر کے کہنے پر بال کاٹنا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
عورت کا سر کے بالوں کو آگے یا پیچھے سے اتنا کاٹنا کہ وہ کندھوں سے اوپر یا کندھوں کے برابر ہو جائیں، ناجائز و حرام اور گناہ ہے اور ایسا کرنے والی عورت پر اللہ تعالی کی لعنت برستی ہے، اگر شوہر کے کہنے پر کاٹے گی ، تب بھی یہی حکم ہے، کیونکہ اللہ پاک کی نافرمانی والے کاموں میں بندوں کی اطاعت جائز نہیں اور شوہر بھی اس ناجائز کام کا حکم دینے کی وجہ سے گناہگار ہو گا۔ البتہ عورت کے کندھوں سے نیچے جو بال ہیں، ان کی نوکیں کاٹ کر برابر کر سکتی ہے ، خواہ شوہر کے کہنے پر کاٹے یا خود ، بہر صورت جائز ہی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.