Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ابصار نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4831-WAT
- Issued
- 28 صفر المظفر 1448 /12 اگست 2026
Question
بچے کا نام "ابصار" رکھنا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال بچے کا نام "ابصار" رکھنا کیسا ہے ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم بچے کا نام ابصار رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ابصار " بصر کی جمع ہے اور یہ عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کا معنی ہے : "آ نکھیں، نظریں ، نگاہیں ۔ " ان معانی کے اعتبار سے بچے کا یہ نام رکھنا جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے ، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوةُ وَ السلام کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگان دین رضوان اللہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.