Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مرتد مرد یا عورت سے نکاح کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطارمی مدنی
- Fatwa no.
- 5234-WAT
- Issued
- 05 صفر المظفر 1448ھ / 20 جولائی 2026
Question
کیا مرتد سے نکاح ہو جاتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال کیا مرتد سے نکاح ہو جاتا ہے ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم مرتد سے نکاح کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مرتد مردیا عورت کا نکاح کسی سے نہیں ہو سکتا، نہ کسی مسلمان سے ، نہ ہی کسی کا فریا مرتد سے ۔ شرح مختصر طحاوی للجصاص میں ہے "ولا تؤكل ذبيحة المرتد، ولا يجوز نكاحه “ ترجمہ : مرتد کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا، نہ ہی اس کا نکاح جائز ہے ۔ ( شرح مختصر الطحاوی للجصاص ، ج 6، ص 116 ، دار البشائر الإسلامية ) مختصر القدوری میں ہے ”ولا يجوز أن يتزوج المرتد مسلمة ولا كافرة ولا مرتدة وكذلك المرتدة لا يتزوجها مسلم ولا كافرولا مرتد ترجمہ : اور جائز نہیں کہ کوئی مرتد کسی مسلمان عورت یا کافرہ یا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.