Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوٰۃ کا وکیل زکوٰۃ کی رقم اپنے والدین کو دے سکتا ہے؟

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
5050-WAT
Issued
04 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 21 مئی 2026ء دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم زکوۃ کے وکیل کا زکوۃ کی رقم اپنے والدین کو دینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کو کسی نے زکوۃ کے پیسے دیے اور کہا کہ آپ کو اختیار ہے کسی بھی ضرورت مند کو دے دینا تو کیا وہ شخص اپنے والدین میں سے کسی کو یا گھر کے کسی اور فرد کو جو مستحق زکوۃ ہے ، اسے وہ رقم دے سکتا ہے؟ جواب اگر واقعی زکوۃ دینے والے نے کسی کی تخصیص نہیں کی، بلکہ مطلقا کسی کو بھی دینے کا کہا ہے ، تو ایسی صورت میں اپنے والدین ، یا گھر کے کسی اور فرد کو بھی زکوۃ کی رقم دے سکتے ہیں ، بشر طیکہ جسے دے رہے ہیں ، وہ مستحق زکوۃ ہو، یعنی فقیر شرعی اور غیر سید اور غیر ہاشمی جوہرہ نیرہ میں ہے " ويجوز…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.