Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غریب رشتے دار کو کفارے کی رقم دے سکتے ہیں؟

Answered by
مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
Fatwa no.
4923-WAT
Issued
22 شوال المکرم 1447ء /11 اپریل 2026. دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم غریب رشتے دار کو کفارے کی رقم دینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) غریب رشتے دار کو کنارے کی نقد رقم دے سکتے ہیں ؟ جواب اگر کوئی رشتے دار، جو اپنے اصول و فروع ( یعنی اپنی اولاد، در اولاد، اور اپنے آباء و اجداد، اور ماں، دادی ، نانی وغیرہ) سے تعلق نہ رکھتا ہو ، وہ شرعی فقیر ہو، کہ اس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ کے علاوہ ، ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر مال موجود نہ ہو، اور نہ وہ سید یا ہاشمی ہو، تو اسے کفارے کی رقم دے سکتے ہیں۔ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے : ”مصرف الزكوة والعشر۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.