Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا سوتیلی ماں کو صدقہ دیا جا سکتا ہے؟

Answered by
مولانا محمد بلال عطاری مدنی
Fatwa no.
4599-WAT
Issued
11 رجب المرجب 1447ھ /01 جنوری 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم سوتیلی ماں کو صدقہ دینے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا سوتیلی ماں کو بیٹی صدقے کے پیسے دے سکتی ہے ؟ جواب سوتیلی ماں ہو یا سوتیلا باپ ، انہیں نفلی صدقہ ، یونہی صدقات واجبہ جیسے زکوۃ عشر وغیرہ دے سکتے ہیں، البتہ حقیقی والدین کو صرف نفلی صدقات دے سکتے ہیں ، صدقات واجبہ نہیں دے سکتے ۔ ردالتیار میں ہے "يجوز دفعها لزوجة ابيه وابنه وزوج ابنته "ترجمہ : صدقات واجبہ اپنے باپ کی بیوی (یعنی سوتیلی ماں) کو ، شوہر کے بیٹے ( یعنی سوتیلے بیٹے) کو ، اور اپنی بیٹی کے شوہر (یعنی داماد) کو دینا جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.