Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بے ضرر آوارہ کتّوں کو مارنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4557-WAT
- Issued
- 27 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 19 دسمبر 2025ء
Question
آوارہ کتے جو نقصان نہ پہنچاتے ہوں، انہیں مارنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا ایسے آوارہ کتوں کو ، جو لوگوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوتے ، اور کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے ، انہیں قتل کرنا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
گلیوں میں آوارہ پھرنے والے وہ کتے، جو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے ، انہیں کسی طرح بھی مارنا جائز نہیں ، البتہ جوکتالوگوں کو کاٹتا یا نقصان پہنچا تا ہو، اسے کسی ایسے طریقے سے مارنا، جائز ہے ، جس میں کم سے کم تکلیف ہو، مثلا کسی ترکیب سے تیر چھری کے ساتھ ذبح کرنا۔ بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خمس من الدواب لا حرج على من قتلهن : الغراب والجداة والفارة والعقرب والكلب العقور ترجمہ : پانچ جانور ایسے ہیں جن کو مارنے والے پر کچھ حرج نہیں ہے ، کوا، چیل، چوہا، بچھو اور کاٹنے والا کتا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.