Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اللّٰہ تمہاری صورتوں اور اموال کی طرف نہیں دیکھتا
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4433-WAT
- Issued
- 20 جمادی الاولی 1447 /12 نومبر 2025
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس کے بارے میں کہ اس حدیث پاک کہ " اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا لیکن وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔ " اس سے کیا مراد ہے ؟ رہنمائی فرمادیں ۔ جواب
Answer (beginning)
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ ، لوگوں کی صورتیں اور اموال اللہ تعالی سے پوشیدہ رہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالی سے کوئی شے پوشیدہ نہیں ہے ، لہذا بندوں کے اموال اور ان کی صورتیں بھی ضرور اس پر عیاں ہیں ، تو اس حدیث پاک سے مراد یہ ہے کہ : لوگوں کے حسین و بدصورت ہونے اور ان کے اموال کے کم یا زیادہ ہونے کا اس کے ہاں کوئی اعتبار نہیں ہے ، بلکہ دل میں موجود اچھی صفات صدق ، یقین ، اخلاص ، تقوی و غیرہ اور بری صفات ریا کاری کا ارادہ ، طلب شہرت ، حب جاہ ، حسد و تکبر وغیرہ کا اعتبار ہے ، اور اسی طرح اعمال کے درست ہونے اور فاسد ہونے کا اعتبار ہے ، لہذا انہی کے مطابق بندوں کو جزا و سزا ملے گی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.