Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دل آزاری کے بعد معافی مانگنا ضروری ہے؟

Answered by
مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
4366-WAT
Issued
02 جمادی الاولی 1447 / 25 اکتوبر 2025. دار الافتاء اهلسنت

Question

کافی عرصہ پہلے کسی کی دل آزاری کی ہو تو کیا اس سے معافی مانگنا ضروری ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی دل آزاری کی ہو اور اس بات کو کئی سال گزر گئے ہوں، تو کیا اُس سے معافی مانگنا ضروری ہوگا؟ اسی طرح اگر کسی غیر محرم کی دل آزاری کی ہو ، تو کیا اس سے بھی معافی مانگناضروری ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو تکلیف دینا، ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، جس نے کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی تکلیف دی ہے ، اُس پر لازم ہے کہ فورا توبہ کرے اور جس کو تکلیف دی ہے ، اُس سے معافی بھی مانگے کہ حق العبد اُس وقت تک معاف نہیں ہوتا جب تک صاحب حق معاف نہ کر دے ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر کسی نے کسی مسلمان کی بلاوجہ شرعی دل آزاری کی ہے ، تو اس پر لازم ہے کہ وہ فوراً تو بہ کرے اور جس کی دل آزاری کی ہے خواہ وہ محرم ہو یا غیر محرم ، اس سے معافی بھی مانگے اگر چہ کئی سال گزر چکے ہوں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.