Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کا نام حمد رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4285-WAT
- Issued
- 07 ربيع الآخر 1447 هـ / 01 اکتوبر 2025. دار الافتاء اهلسنت
Question
بچے کا نام حمد رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حمد نام رکھنا کیسا ؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں ۔ جواب
Answer (beginning)
حمد کا معنی ہے : تعریف، شکر ، اچھے کام کی ستائش وغیرہ ۔ اور یہ بطور صفت بھی استعمال ہوتا ہے ، اس وقت یہ محمود کے معنی میں ہوتا ہے ، یعنی : تعریف کیا ہوا۔ لہذا یہ نام رکھنا جائز ہے ۔ البتہ بہتر ہے کہ بچے کا اولاً نام آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک پر رکھا جائے یعنی محمد تاکہ اس کی برکتیں حاصل ہوں پھر بلانے کے لئے دوسرا نام بھی رکھا جا سکتا ہے ۔ القاموس الوحید میں ہے "الحمد : حسن فعل کی ستائش، تعریف ، شکر ۔ (2) قابل تعریف بطورِ صفت بھی استعمال ہوتا ہے جیسے رجل محمد وامراة حمدة و منزل و منزلة حمد - حمد بمعنی محمود اور حمدة بمعنی محمودہ ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.