Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ادھار چیز خریدنے کے بعد اسے بیچ کر قیمت ادا کرنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4281-WAT
Question
ادھار چیز خریدنے کے بعد اسے بیچ کر قیمت ادا کرنے کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر ہم کسی سے ادھار کپڑا خرید لیتے ہیں اور پھر آگے دکاندار کے علاوہ کسی اور کو بیچ دیتے ہیں اور جو نفع اس میں سے حاصل ہوتا ہے اس کو رکھ لیتے ہیں، باقی اصل رقم جو اس کپڑے کی ہوتی ہے ، دکاندار کو دیتے ہیں، کیا ہمارا ایسا کرنا درست ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ کا ادھار کپڑا خرید کر آگے کسی کو بیچنا اور اس سے حاصل ہونے والا نفع رکھ لینا اور باقی اصل رقم پہلے دکاندار کو دے دینا، جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ کوئی دوسری شرعی خرابی نہ ہو۔ وجہ یہ ہے کہ جب پہلا ایگریمنٹ مکمل ہو گیا، تو کپڑا آپ کی ملکیت میں آگیا اگر چہ آپ نے ابھی اس کی قیمت ادا نہیں کی، لہذا جس طرح ادھار خریدنے کے بعد اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں، اسی طرح آگے بیچ بھی سکتے ہیں کہ اپنی ملکیت والی چیز میں ہر جائز تصرف کرنے کا انسان کو اختیار ہے اور پھر جب ادھار قیمت ادا کرنے کا وقت آئے گا تو اب وہ قیمت خواہ اس کپڑے کو بیچ کر حاصل ہونے والی قیمت سے ادا کریں یا اپنی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.