Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مہر میں سونے کی چین لکھوانے کا حکم
- Fatwa no.
- 4238-WAT عام الامناء اهلسنت
- Issued
- 25 ربیع الاول 1447ھ / 19 ستمبر 2025ء
Question
سونے کی چین عورت کے مہر میں لکھوانے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) سونے کی چین جس کی مالیت 65 ہزار ہو، کیا اسے مہر میں لکھوا سکتے ہیں ؟ اور اس کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
شریعت مطہرہ میں مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی یا اس کی قیمت ، یا اتنی مالیت کی کوئی چیز ہے ، اور زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں ۔ اس سے زیادہ باہمی رضامندی سے جتنا چا ہیں مقرر کر سکتے ہیں ۔ تو سوال میں بیان کردہ سونے کی چین (جس کی مالیت پاکستان میں موجودہ ریٹ کے مطابق دو تولہ ساڑھے سات ماشے چاندی سے زیادہ ہے) کو باہمی رضامندی کے ساتھ حق مہر کے طور پر مقرر کیا جاسکتا ہے ۔ اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ایجاب و قبول کے وقت حق مہر کا ذکر کرتے ہوئے اس سونے کی چین کا ذکر کیا جائے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.