Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سیاہ خضاب بیچنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4223-WAT
- Issued
- 21 ربیع الاول 1447ء / 15 ستمبر 2025ء
Question
سیاہ خضاب بیچنا کیسا ہے ؟ جواب سیاہ خضاب بیچنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
سیاہ خضاب بیچنا شرعاًناجائزو گناہ ہے ، کیونکہ شریعت مطہرہ کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ہر وہ چیز جو نا جائز کام کے لیے متعین ہو یا جس کا مقصود اعظم ہی گناہ کا حصول ہو، اسے فروخت کرنا ، ناجائز و گناہ ہے ، کہ یہ گناہ پر معاونت ہے جس کی قرآن پاک میں ممانعت بیان فرمائی گئی ہے۔ سیاہ خضاب کا مقصودا عظم بال سیاہ کرنا ہی ہے جو کہ حالت جہاد کے علاوہ مردو عورت دونوں کے لیے ناجائز و حرام اور گناہ ہے ، اور سیاہ خضاب بیچنا گناہ پر معاونت کرنا ہے اور گناہ پر معاونت کرنا بھی گناہ ہے ، لہذا سیاہ خضاب کا بیچنا، ناجائز و گناہ ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.