Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا جہیزمیں زیور دینا ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 4200-WAT
- Issued
- 05 ربیع الاول 1447ھ / 30 اگست 2025ء علم الافتاء اهلسنت
Question
کیا جہیز میں زیور دینا ضروری ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا زیور کے بغیر شادی نہیں ہوتی ؟ کیا ایسا کوئی حکم ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
شریعت مطہرہ میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ زیور کے بغیر شادی نہیں ہوتی، بلکہ تاجدار انبیا، شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیهم والہ وسلم نے سیدۃ النسا، خاتون جنت ، حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جہیز میں جو سامان دیا ، وہ بالکل مختصر تھا، اور اس سامان میں زیور نہیں تھا، اس سامان کی فہرست یہ ہے : ایک کملی (چھوٹا سی کمبل)، بان کی ایک چارپائی چمڑے کا گدا، جس میں روٹی کی جگہ کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ، ایک چھا گل ( پانی رکھنے کا برتن)، ایک مشک، دو چکیاں ، دو مٹی کے گھڑے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.