Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کا نام طائر رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4120-WAT عالم الافيا اهلسنت
- Issued
- 20 صفر المظفر 1447هـ / 15 اگست 2025ء
Question
بچے کا نام طائر رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) "الطائر " نام رکھنا کیسا ہے ؟ میں اس کے معانی بھی جانتا ہوں اور مجھے یہ بھی پتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور بزرگان دین کے نام پر نام رکھنا چاہئے ۔ بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ نام رکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
"الطائر " نام رکھنا جائز ہے ، اس کا معنی ہے : "پرندہ ، اڑنے والا ۔ لیکن اس کے بجائے کوئی اچھے معنی والا نام رکھنا چاہئے۔ القاموس الوحید میں ہے "الطائر : پرندہ ، فضا میں اڑنے والا ہر جانور ۔ “ (القاموس الوحید ، صفحہ 1026، مطبوعہ کراچی) نام بچے کے لئے سب سے پہلا تحفہ ہوتا ہے ، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے ”أول ما ينحل الرجل ولده اسمه فلیحسن اسمه “ترجمہ : سب سے پہلا تحفہ جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے وہ اُس کا نام ہے تو چاہئے کہ وہ اُس کا اچھا نام رکھے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.