Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام کنیز فاطمہ رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4119-WAT
- Issued
- 20 صفر المظفر 1447ء /15 اگست 2025
Question
بچی کا نام "کنیز فاطمہ " رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کنیز فاطمہ نام رکھنا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
کنیز فاطمہ کا مطلب ہے : "حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خادمہ ۔ اور یہ نام رکھنا بہت اچھا ہے ، کیوں کہ فاطمہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی لاڈلی صاحبزادی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام مبارک ہے ، اور کنیز ان کی خادمہ کی حیثیت سے لگایا گیا ہے ۔ اور احادیث میں اچھے نام رکھنے کی خاص ترغیب دلائی گئی ہے ۔ حدیث مبارکہ میں ہے ”اول ما ينحل الرجل ولده اسمه فليحسن اسمہ ترجمہ : سب سے پہلا تحفہ جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے وہ اُس کا نام ہے تو چاہئے کہ وہ اُس کا اچھا نام رکھے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.