Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گندم ادھار لینے کا حکم

Answered by
مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
Fatwa no.
4115-WAT
Issued
17 صفر المظفر 1447 / 12 اگست 2025. دار الافتاء اهلسنت

Question

گندم ادھار لینے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے دس بوری گندم ادھار لی ہے اور مالک کو کہا کہ ایک سال بعد جو میری فصل اترے گی تو اس وقت دس بوری واپس کر دوں گا تو کیا یہ جائز ہے؟ جواب

Answer (beginning)

جی ہاں گندم کو قرض دینا اور لینا جائز ہے کہ گندم مثلی چیز ہے ۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ جتنی گندم لی ، واپسی بھی اتنی اور ویسی ہی گندم دینا طے پائے ۔ ہاں بعد میں دینے والا اپنی مرضی سے بغیر شرط کے اس سے زیادہ یا بہتر دے دے تو جائز ہے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں دس بوری گندم ادھار لے کر واپس دس بوری گندم دینا جائز ہے ۔ اور اگر ایک سال بعد اس جیسی اتنی گندم کا ریٹ کم یا زیادہ ہو تو اس کا اعتبار نہیں ہے مثلا دس بوری گندم قرض لی ، جس کی مالیت اس وقت دس ہزار روپے تھی، تو اب ایک سال بعد واپس کرتے وقت اسی کوالٹی کی اتنی گندم کی قیمت اگر چہ بارہ ہزار روپے ہو جائے تب بھی وہی اور اتنی ہی گندم واپس کرنی ہوگی ،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.