Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مردار جانور بیچنے کا حکم

Question

مردار جانور بیچنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مری ہوئی بھینس کو فروخت کرنا کیسا ہے ؟ اور کسی نے اگر اس کا گوشت کھا لیا تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ جواب

Answer (beginning)

شرعی اعتبار سے جو جانور خود بخود طبعی موت مرجائے ، وہ مردار ہوتا ہے اور مردار کی خرید و فروخت باطل ہے کیونکہ بیچ کا رکن یہ ہے کہ مال کا مال سے تبادلہ کیا جائے ، جب کہ مردار مال نہیں ہے ، تو یوں بیچ کا رکن نہ پائے جانے کی وجہ سے مردار کی خرید و فروخت باطل ہے ۔ لہذا مری ہوئی بھینس کو فروخت کرنا جائز نہیں۔ نیز جانتے بوجھتے، بغیر شرعی مجبوری کے مردار کا گوشت کھانا بھی حرام ہے۔ پس جس نے جانتے بوجھتے، بغیر شرعی مجبوری کے مردہ بھینس کا گوشت کھایا، وہ گنہگار ہے اور اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ سے سچی توبہ کرے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.