Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مشائم نام رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4068-WAT
- Issued
- 03 صفر المظفر 1447ء 29 جولائی 2025. دار الافتا اهلسنت
Question
مشائم نام رکھنا کیسا ہے ؟ جواب مشائم نام رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
" مشائم (Mashaaim/Masha'im)" (میم اور شین کے زبر اور ہمزہ کے زیر کے ساتھ ) "مشامتہ " کی جمع ہے ، اور مشامتہ کے معنی بدشگونی، نحوست، بد بختی اور بائیں جہت کے ہیں۔ اس طرح مشائم کے معنی ہوں گے : نحوستیں، بدشگونیاں ، بدبختیاں اور بائیں جہتیں ۔ لہذا اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے ، لہذا یہ نام نہ رکھا جائے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ بیٹے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام ، اہل بیت اطہار ، تابعین عظام اور بزرگان دین رضوان اللہ تعالی علیهم اجمعین اور نیک لوگوں کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.