Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام "عارفہ" رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4056-WAT
- Issued
- 29 محرم الحرام 1447ء 25 جولائی 2025. DaruliftaAhlesunnat
Question
بچی کا نام عارفہ رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ لڑکی کا نام ”عارفہ “ رکھنا کیسا ؟ جواب
Answer (beginning)
عارفہ "عارف کی مؤنث ہے ، یوں اس کا معنی ہے : " جاننے والی، معرفت رکھنے والی ۔ " اس معنی کے اعتبار سے لڑکی کا نام ”عاریفہ “رکھنا جائز ہے ، شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ لڑکی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی ۔ فرہنگ آصفیہ میں ہے "عارف : اسم مذکر : - واقف ۔ جانے والا ۔ خداشناس - صاحب معرفت ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.