Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گریجویٹی(gratuity) کی رقم کا حکم
- Fatwa no.
- 4045-WAT
- Issued
- 27 محرم الحرام 1447ء 23 جولائی 2025ء
Question
گریجویٹی (gratuity) کی رقم کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کے انتقال کے بعد اس کی گریجویٹی gratuity)) اس کے والدین کو دی گئی ہے ، والدین اس کو استعمال کر سکتے ہیں یا اس میں بھی وراثت جاری ہوگی ؟ نوٹ !اگریجویٹی وہ فنڈ ہے جو ادارے کی طرف سے کسی ملازم کے انتقال یا ریٹائر منٹ کے بعد انعام اور تحفہ کے طور پر دیا جاتا ہے ۔ جواب
Answer (beginning)
اولا یہ یادر ہے کہ میت جو چیز میں چھوڑ کر جائے اور ان کے ساتھ کسی کا حق بھی متعلق نہ ہو ، تو ان میں وراثت جاری ہوتی ہے ۔ چونکہ گریجوئی فنڈ میت کی ملک نہیں کہ وہ تو انتقال کے بعد تحفہ اور انعام کے طور پر ملا ہے ، لہذا اس میں وراثت بھی جاری نہیں ہوگی بلکہ ادارے کی طرف سے جسے دیا جائے گا، صرف وہی اس کا مستحق ہوگا ۔ اور جب ہبہ (تحفہ) والی چیز پر اس کی دیگر شرائط کے ساتھ قبضہ کر لیا جائے تو قبضہ کرنے والا اس کا مالک بن جاتا ہے ۔ لہذا اگر والدین کو یہ رقم مل چکی ہے تو وہ اس کے مالک ہیں اور ان کا اس رقم کو استعمال کرنا بھی درست ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.