Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام مِنسا رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4039-WAT
- Issued
- 25 محرم الحرام 1447 / 21 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
ہنسا نام رکھنا کیسا ؟ جواب بچی کا نام "ینسا " رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
نسا (میم کے زیر اور نون کے سکون کے ساتھ) عربی زبان کا لفظ ہے ، باب نسبی يَنسى (سمع يسمع) سے اسم آلہ کا صیغہ ہے ، جس کا معنی ہے " بھول جانے کا آلہ ، اس معنی کے لحاظ سے یہ نام مناسب نہیں ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صحابیات ، صالحات رضی اللہ تعالی عنھن کے نام پر رکھیں تاکہ ان کی برکات بھی حاصل ہوں اور حدیث پاک پر عمل بھی ہو کہ حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اچھے نام رکھنے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی ہے ۔ المنجد میں ہے " نَسِى يَنسى : بھولنا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.