Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وعدہ خلافی کا شرعی حکم

Fatwa no.
3772-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کے مرنے کے بعد 3 قرآن پاک پڑھ کر ایصال ثواب کروں گا، پھر ان کے مرنے پہلے کہہ دیا کہ ایصال ثواب نہیں کروں گا، تو ایسا کرنا کیسا؟

Answer (beginning)

وعدہ پورا کر نا عمدہ اسلامی اخلاق میں سے ہے اور وعدے کو بلا وجہ پورا نہ کرنا مکروہ تنزیہی اور خلاف مروت فعل ہے، البتہ وعدہ کر لینے سے وہ کام لازم نہیں ہو جاتا اس لیے وعدہ کرنے والے کو اس پر مجبور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یوں ہی اگر وعدہ کرتے وقت سچے دل سے کیا تھا یعنی اسے پورا کرنے کی نیت تھی بعد میں نیت بدل گئی تو یہ شر عاوعدہ خلافی نہ کہلائے گی، لہذا اس پر گناہ نہیں؛ کیونکہ وعدہ خلافی اسے کہتے ہیں کہ وعدہ کرتے وقت ہی اسے پورا نہ کرنے کی نیت ہو اور یہ بلا ضرورت شرعی حرام اور سخت گناہ ہے البتہ اگر پہلے وعدہ کیا لیکن بعد میں دوسرے شخص کو اطلاع دے کر راضی کر لیا کہ میں ایسا نہیں کر سکوں گا تو اب…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.