Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کلاس روم میں اسٹوڈنٹس کا فنڈ بچ جائے تو کیا کریں؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کلاس روم میں اسٹوڈنٹس نے فنڈ جمع کیا ، اور وہ بچ گیا تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کلاس روم میں اسٹوڈنٹس سے جمع کیا گیا فنڈ سال کے آخر میں بچ جائے ، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جواب چندہ جس کام کے لیے دیا جائے ، اور بچ جائے تو وہ چندہ دینے والوں کی ملکیت پر باقی رہتا ہے ۔ لہذا جن طلباء نے کلاس فنڈ دیا ہے ، بیچ جانے والا کلاس فنڈ ان کو واپس کر دیا جائے یا ان کی اجازت سے کسی اور کام میں لگایا جاسکتا ہے جبکہ سب اجازت دیں ۔ یادرکھیں کہ نابالغ بچہ چندہ یا فنڈ نہیں دے سکتا اس لئے اس سے چندہ نہ لیا جائے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.